Skip to main content

گزرا زمانہ اچھا تھا۔ جب بچے بڑوں کو، بڑا سمجھتے تھے۔


🌍
اُس دور میں ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا، اور اگر بتاتا تھا تو باپ اُسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ....!!
یہ وہ دور تھا جب ”اکیڈمی“کا کوئی تصور نہ تھا، ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے .....!!
بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی.......!!۔
لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار  نہیں نکالتا تھا، صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ ” میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا  ،،۔ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔......!!
اُس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے، صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں ہر گھرکا معمول تھیں۔......!!
کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اُس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ” مہمانوں “ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے، فینائل کی خوشبو میںلبے بستر نکالے جاتے ، خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ، مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی.....!!
جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا، سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے، مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ، تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔۔.......!!
شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا، شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا، جس گھر میں شادی ہوتی تھی اُن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے، محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔.......!!
کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دُکھ ایک جیسے تھے ......!!
سب غریب تھے، سب خوشحال تھے، کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔دوکاندار کو کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ ہوتا تھا۔
* اب وہ دن تو لوٹ کے نہیں آنے والے مگر ہم اپنی نسل کو اپنی روایات سے روشناس تو کروا ہی سکتے ہیں *
کاپی۔

Comments

Popular posts from this blog

موبائل فونز کا بڑھتا ہوا استعمال اور بچوں پر اثرات

  موبائل فونز کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں کی زندگیوں پر نمایاں اثرات ڈال رہا ہے۔ یہاں بچوں پر موبائل کے اثرات کی تفصیل دی گئی ہے: جسمانی اثرات آنکھوں کی تھکان : ڈیجیٹل آئی سٹرین : موبائل کی سکرین پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی آنکھوں میں تھکان، خشکی، دھندلاہٹ، اور سر درد ہو سکتا ہے۔ نیند کی کمی : بلیو لائٹ : موبائل کی بلیو لائٹ نیند کے ہارمونز کو متاثر کرتی ہے، جس سے بچوں کو نیند آنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور نیند کی کمی ہو سکتی ہے۔ جسمانی صحت : موٹاپا : زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ذہنی اثرات توجہ کی کمی : پرتشدد مواد : موبائل گیمز اور ویڈیوز میں پرتشدد مواد بچوں کی توجہ اور ارتکاز کو متاثر کر سکتا ہے۔ بے چینی اور ڈپریشن : سوشل میڈیا اور آن لائن مواد کی وجہ سے بے چینی اور ڈپریشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تعلیمی کارکردگی : کمزور کارکردگی : موبائل کا زیادہ استعمال بچوں کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے کیونکہ ان کی توجہ پڑھائی سے ہٹ جاتی ہے۔ سماجی اثرات سماجی تعلقات میں کمی : تنہائی : موبائل کا زیادہ استعمال بچوں...

مثانے کے غدور

  مثانے کے غدور (پروسٹیٹ) کا مسئلہ عمر کے ساتھ زیادہ عام ہوتا جاتا ہے، خاص طور پر مردوں میں۔ پروسٹیٹ کا بڑھنا یا اس کی سوجن (پروسٹیٹائٹس) پیشاب میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے، جس سے پیشاب کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہ مسئلہ کافی تکلیف دہ ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ مثانے کے غدور کے مسائل کی علامات پیشاب کی دھار میں کمی پیشاب کا بار بار آنا رات کو بار بار پیشاب کے لئے اٹھنا پیشاب کرنے میں مشکل یا درد مثانے کی مکمل طور پر خالی نہ ہونے کا احساس مثانے کے غدور کے مسائل کی وجوہات پروسٹیٹ کے مسائل کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں: عمر بڑھنے کے ساتھ پروسٹیٹ کا بڑھنا (بینائن پروسٹیٹک ہائپرپلازیا) پروسٹیٹ کا انفیکشن (پروسٹیٹائٹس) ہارمونل تبدیلیاں جینیاتی عوامل جڑی بوٹیاں اور قدرتی علاج کچھ جڑی بوٹیاں اور قدرتی علاج مثانے کے غدور کے مسائل میں مدد کر سکتے ہیں: ساو پالمیٹو : ساو پالمیٹو کا استعمال پروسٹیٹ کے سائز کو کم کرنے اور پیشاب کی رکاوٹ کو دور کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پائیجم : پائیجم افریقن جڑی بوٹی ہے جو پروسٹیٹ کے مسائل میں م...

یورک ایسڈ کے اسباب

✔ یورک ایسڈ ایک کیمیائی مرکب ہے جو انسانی جسم میں قدرتی طور پر بنتا ہے۔ یہ پیورینز (Purines) کے ٹوٹنے کا نتیجہ ہوتا ہے، جو مختلف قسم کے کھانے اور مشروبات میں پائے جاتے ہیں۔ یورک ایسڈ عام طور پر خون کے ذریعے گردوں تک پہنچتا ہے جہاں سے یہ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتا ہے۔ تاہم، اگر یورک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہو جائے یا گردے اسے مناسب طریقے سے خارج نہ کر پائیں تو یہ خون میں جمع ہو سکتا ہے اور مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ یورک ایسڈ کے اسباب خوراک : گوشت، سمندری غذا، اور الکحل جیسے کھانے اور مشروبات میں پیورینز کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، جو یورک ایسڈ کی سطح کو بڑھا سکتے ہیں۔ وزن : زیادہ وزن یا موٹاپا یورک ایسڈ کی پیداوار اور اس کی اخراج میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ بیماریاں : کچھ بیماریاں جیسے کہ گردے کی بیماری، ذیابیطس، اور ہائپوتھائیرائڈزم بھی یورک ایسڈ کی سطح کو متاثر کر سکتی ہیں۔ دوائیاں : کچھ دوائیاں جیسے کہ ڈائیورٹکس اور ایسپرین یورک ایسڈ کی سطح کو بڑھا سکتی ہیں۔ یورک ایسڈ کے اثرات یورک ایسڈ کی زیادتی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں: گاؤٹ : یہ ایک قسم کی ...