Skip to main content

جب حادثہ ہو جائے تو ڈاکو نہ بن جائیں۔


جب حادثہ ھو جائے تو مدد کریں ڈاکو نہ بنیں 
ﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻏﯿﺮ ﻣﮩﺬﺏ ﺭﻭﯾﮯ ..
ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ ﻧﺰﺩ ﺍﻻ ﺋﯿﮉ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻧﮉﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭨﺮﮎ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺍ ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺭﺵ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺋﯿﮏ ﺳﮯ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ،
ﻟﻮﮒ ﺷﺎﭘﺮ ،ﺑﺎﻟﭩﯿﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﻧﮉﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ ،
ﮐﺌﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﭘﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﺎﻝ ﻣﻔﺖ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ،
ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺠﺮ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﻤﯿﺾ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﻝ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﻟﻮﭨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺰﯼ ﺗﮭﮯ ،
ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﮐﭽﮫ ﻣﺤﻈﻮﻅ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﭘﺴﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﮩﺬﺏ ﺭﻭﯾﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮰ ،
ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯽ ﺩﮮ ﭘﺎ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺎﻝ ﻣﻔﺖ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭩﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ بہت مصروف تھے بات تک کرنے کو وقت کا ضیاع سمجھ رہے تھے،
ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﭨﺮﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺗﻮ ،
ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﭨﺮﮎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﻮ ﭼﮍﮬﺎ ،ﺟﻮ ﮐﮧ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮫ ﺳﺎﺕ ﻓﭧ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﻮ ﻟﮯ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﯿﮩﻮﺵ ﺗﮭﺎ ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻣﺮﺩﻭ ﺯﻥ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺩﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺎﻝ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺳﭙﺎﻧﺲ ﻧﺎ ﺩﯾﺎ ،
ﻣﯿﮟ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﯿﺎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ،
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻻﮨﻮﺭ ﭼﻮﺑﺮﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﮩﺎﺯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺎﺭﮎ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭘﮏ ﺍﭖ ﮐﺎ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﻮﺍ ،
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺑﻮﺯ ﺑﮭﺮﮮ ﺗﮭﮯ ،
ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﮈﺍﺭﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺱ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻟﻮﮒ ﺗﺮﺑﻮﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺷﻔﭧ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ،
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﺮﮔﻮﺩﮬﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮏ ﺍﭖ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻟﯿﻨﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ،
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮﺩﻭﺳﺖ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﻧﮩﯽ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﯿﺐ ﺻﺎﻑ ﺿﺮﻭﺭ کی ،
بالاکوٹ میں زلزلے کے بعد لوگوں نے مرنے والی خواتین کے ناک کان کاٹ لئیے تھے فقط چند ہزار کے زیورات کی کی خاطر، 
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺻﺮﻑ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻟﻮﮒ ﮨﯽ ﻧﮩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ،ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ﮬﮯ ،
ﺻﺮﻑ ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ ﻻﮨﻮﺭ ﺳﺮﮔﻮﺩﮬﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ﮬﮯ ﺑﺪ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ،
بس یا ٹرین کے حادثے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں افراد کی مدد کرنے کے بجائے ان کی جیبیں اور ان کا قیمتی سامان لوٹ لیا جاتا ہے ان کے بٹوے کے ساتھ ساتھ شناختی کارڈ بھی لے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت نہیں ہو پاتی اور ان کو لاوارث قرار دیتے ہوئے دفنا دیا جاتا ہے، 
ﻏﻢ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺧﻮﺷﯽ ،ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ ،
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ،
ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻠﺴﮯ ﮐﯽ ﺍﻓﻄﺎﺭ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺁﻓﺎﺕ ﭘﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ،
ﮨﻢ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ،
ﭼﺎﮨﮯ ﻏﺮﯾﺐ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺍﻣﯿﺮ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ،
ﺑﮍﮮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﻨﺎ ﭘﮍ ﺭﮬﺎﮬﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺮ ﻣﮩﺬﺏ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﻌﻮﺭ ﻗﻮﻡ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ،
ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺷﻌﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺬﺏ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯽ ،
ﺍﻟﻠّﻪ ﭘﺎﮎ ﻣﺠﮭﮯ ،ﺁﭘﮑﻮ ،ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺷﻌﻮﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ان ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎﮮ .
ﺍﻭﺭ ﭘﺴﻤﺎﻧﺪﮔﺎﻥ ﮐﻮ ﺻﺒﺮ ﺟﻤﯿﻞ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﮮ .
 ﺁﻣﯿﻦ
                               ﻧﻮﭦ 
 ﯾﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻏﯿﺮ ﻣﮩﺬﺏ ﺭﻭﯾﮧ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻥ ﺩﮬﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺩﻝ ﺁﺯﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯽ ...
کاپی پیسٹ

Comments

Popular posts from this blog

موبائل فونز کا بڑھتا ہوا استعمال اور بچوں پر اثرات

  موبائل فونز کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں کی زندگیوں پر نمایاں اثرات ڈال رہا ہے۔ یہاں بچوں پر موبائل کے اثرات کی تفصیل دی گئی ہے: جسمانی اثرات آنکھوں کی تھکان : ڈیجیٹل آئی سٹرین : موبائل کی سکرین پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی آنکھوں میں تھکان، خشکی، دھندلاہٹ، اور سر درد ہو سکتا ہے۔ نیند کی کمی : بلیو لائٹ : موبائل کی بلیو لائٹ نیند کے ہارمونز کو متاثر کرتی ہے، جس سے بچوں کو نیند آنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور نیند کی کمی ہو سکتی ہے۔ جسمانی صحت : موٹاپا : زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ذہنی اثرات توجہ کی کمی : پرتشدد مواد : موبائل گیمز اور ویڈیوز میں پرتشدد مواد بچوں کی توجہ اور ارتکاز کو متاثر کر سکتا ہے۔ بے چینی اور ڈپریشن : سوشل میڈیا اور آن لائن مواد کی وجہ سے بے چینی اور ڈپریشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تعلیمی کارکردگی : کمزور کارکردگی : موبائل کا زیادہ استعمال بچوں کی تعلیمی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے کیونکہ ان کی توجہ پڑھائی سے ہٹ جاتی ہے۔ سماجی اثرات سماجی تعلقات میں کمی : تنہائی : موبائل کا زیادہ استعمال بچوں...

مثانے کے غدور

  مثانے کے غدور (پروسٹیٹ) کا مسئلہ عمر کے ساتھ زیادہ عام ہوتا جاتا ہے، خاص طور پر مردوں میں۔ پروسٹیٹ کا بڑھنا یا اس کی سوجن (پروسٹیٹائٹس) پیشاب میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے، جس سے پیشاب کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہ مسئلہ کافی تکلیف دہ ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ مثانے کے غدور کے مسائل کی علامات پیشاب کی دھار میں کمی پیشاب کا بار بار آنا رات کو بار بار پیشاب کے لئے اٹھنا پیشاب کرنے میں مشکل یا درد مثانے کی مکمل طور پر خالی نہ ہونے کا احساس مثانے کے غدور کے مسائل کی وجوہات پروسٹیٹ کے مسائل کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں: عمر بڑھنے کے ساتھ پروسٹیٹ کا بڑھنا (بینائن پروسٹیٹک ہائپرپلازیا) پروسٹیٹ کا انفیکشن (پروسٹیٹائٹس) ہارمونل تبدیلیاں جینیاتی عوامل جڑی بوٹیاں اور قدرتی علاج کچھ جڑی بوٹیاں اور قدرتی علاج مثانے کے غدور کے مسائل میں مدد کر سکتے ہیں: ساو پالمیٹو : ساو پالمیٹو کا استعمال پروسٹیٹ کے سائز کو کم کرنے اور پیشاب کی رکاوٹ کو دور کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پائیجم : پائیجم افریقن جڑی بوٹی ہے جو پروسٹیٹ کے مسائل میں م...

یورک ایسڈ کے اسباب

✔ یورک ایسڈ ایک کیمیائی مرکب ہے جو انسانی جسم میں قدرتی طور پر بنتا ہے۔ یہ پیورینز (Purines) کے ٹوٹنے کا نتیجہ ہوتا ہے، جو مختلف قسم کے کھانے اور مشروبات میں پائے جاتے ہیں۔ یورک ایسڈ عام طور پر خون کے ذریعے گردوں تک پہنچتا ہے جہاں سے یہ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتا ہے۔ تاہم، اگر یورک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہو جائے یا گردے اسے مناسب طریقے سے خارج نہ کر پائیں تو یہ خون میں جمع ہو سکتا ہے اور مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ یورک ایسڈ کے اسباب خوراک : گوشت، سمندری غذا، اور الکحل جیسے کھانے اور مشروبات میں پیورینز کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، جو یورک ایسڈ کی سطح کو بڑھا سکتے ہیں۔ وزن : زیادہ وزن یا موٹاپا یورک ایسڈ کی پیداوار اور اس کی اخراج میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ بیماریاں : کچھ بیماریاں جیسے کہ گردے کی بیماری، ذیابیطس، اور ہائپوتھائیرائڈزم بھی یورک ایسڈ کی سطح کو متاثر کر سکتی ہیں۔ دوائیاں : کچھ دوائیاں جیسے کہ ڈائیورٹکس اور ایسپرین یورک ایسڈ کی سطح کو بڑھا سکتی ہیں۔ یورک ایسڈ کے اثرات یورک ایسڈ کی زیادتی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں: گاؤٹ : یہ ایک قسم کی ...